وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے علاج سے متعلق عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر حکومت اور انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں کمزور اور طاقتور کے لیے الگ الگ قانون کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔
ہنگو کے ابوبکر صدیق چوک میںاسٹریٹ موومنٹ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان کے علاج سے متعلق تین ججوں پر مشتمل فیصلے کو نظرانداز کر کے عدلیہ کے وقار کو مجروح کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے بااثر طبقے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ آئین و قانون سے بالاتر ہیں۔ پی ٹی آئی کے خلاف کسی بھی ادارے کا حکم چند منٹوں میں نافذ ہو جاتا ہے، لیکن بانی پی ٹی آئی کے بنیادی اور قانونی علاج کے معاملے میں عدالتی احکامات کو بھی ہوا میں اڑا دیا گیا۔
عدلیہ سے مخاطب ہوتے ہوئے محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں طاقتوروں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لا سکتیں، تو انہیں کمزور اور مظلوم شہریوں کو سزا دینے کا بھی کوئی حق نہیں پہنچتا۔ عمران خان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہی ملک میں تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون کی حکمرانی قائم کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسان پریشان ہیں اور صنعت کار اپنا سرمایہ بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ اگر طاقتور طبقے کی پشت پناہی کی پالیسی برقرار رہی تو وہ اس کے خلاف ہر فورم پر ڈٹ جائیں گے۔
اس موقع پر انہوں نے 27 اگست کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ 40 لاکھ افراد کا سمندر وفاقی دارالحکومت کا رخ کرے گا۔











