ضلع کرم میں نادرا کی موبائل رجسٹریشن وین پر حملے کے بعد ملازمین کی جانب سے جاری بائیکاٹ اور دفاتر کی تالابندی آٹھویں روز بھی برقرار رہی۔
ضلع بھر کے تمام نادرا مراکزمیں کام بند ہونے کے باعث ہزاروں افراد شناختی کارڈز، بائیو میٹرک تصدیق، فارم-بی اور دیگر ضروری سرکاری اسناد کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔
ملازمین کی جانب سے یہ احتجاج 21 جولائی کو پیش آنے والے ایک فائرنگ کے واقعے کے بعد پیدا ہوئی۔
پولیس ذرائع کےمطابق نادرا کی موبائل وین وسطی کرم کی تحصیل تڑلی کے علاقے ڈوگر میں قائم عارضی کیمپ سے عملے کو واپس صدہ بازار منتقل کر رہی تھی کہ راستے میں نامعلوم مسلح افراد نے گاڑی پر اندھا دھند گولیاں برسا دیں۔حملے کے نتیجے میں گاڑی پر متعدد گولیاں لگیں اور اسے شدید نقصان پہنچا تاہم تمام ملازمین معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
حملے کے فوراً بعد نادرا ملازمین نے ضلع بھر میں کام بند کر کے مکمل سیکیورٹی اور حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر دیا تھا۔
احتجاجی عملے کا واضح موقف ہے کہ جب تک انہیں ضلع کرم کے حساس علاقوں میں ڈیوٹی کے لیے فول پروف سیکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی وہ دفاتر نہیں کھولیں گے۔
دفاتر کی بندش کے باعث دور دراز دیہات سے بھاری کرائے بھر کر آنے والے دیہاڑی دار، خواتین اور بزرگ روزانہ نادرا دفاتر کے باہر سے نالہ و فریاد کرتے ہوئے ناکام لوٹ رہے ہیں۔









