جنوبی وزیرستان لوئر، اراضی تنازع پر دو قبیلوں میں تصادم، 7 افراد زخمی

جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل توئی خلہ میں دیرینہ اراضی تنازع پردوقبیلوں کےدرمیان فائرنگ کے تبادلے میں 7 افراد زخمی ہو گئے جنہیں علاج کے لیے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ کا یہ واقعہ سلیمان خیل قبیلے کی شاخ سلطان خیل کے دو گروہوں کے درمیان پیش آیا جن کے مابین عرصہ دراز سے اراضی کا تنازع چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں بھی اس تنازعے کوحل کرنے کے لیے متعدد مقامی جرگے اور مصالحتی کوششیں کی جا چکی ہیں مگر کوئی مستقل حل نہ نکل سکا۔

دوسری جانب مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور علاقے میں حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق تفتیش مکمل ہونے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے بعد ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

واضح رہے کہ تحصیل توئی خلہ بشمول پورے جنوبی وزیرستان لوئر میں سرے سے پٹواری یا باقاعدہ لینڈ ریونیو کا کوئی نظام ہی موجود نہیں ہے۔سرکاری سطح پر زمینوں کا کوئی باضابطہ ریکارڈ، کاغذی اندراج یا حد بندی کا میکانزم نہ ہونے کے باعث زیادہ تر اراضی یا تو مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی ہے یا پھر زبانی دعووں پر منحصر ہے۔

باقاعدہ پٹواری نظام کی عدم موجودگی کے باعث یہاں آئے روز اراضی کے تنازعات جنم لیتے ہیں اور معمولی حدود کی کشیدگی اکثر اوقات قبائل کے درمیان خونریز تصادم اور دیرینہ دشمنیوں کا سبب بن جاتی ہے۔