جنوبی وزیرستان لوئر: تعلیمی اداروں کو دھمکیاں، کئی علاقوں میں سکول بند

نورعلی وزیر
جنوبی وزیرستان لوئر کے مختلف علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی دھمکیوں کے بعد متعدد سکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں اور کئی مقامات پر تدریسی عمل معطل کر دیا گیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق تحصیل برمل کے متعدد علاقوں میں نامعلوم مسلح افراد نے مقامی آبادی کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں سکول انتظامیہ کو براہِ راست ادارے بند کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیںتاہم ان اقدامات کے پیچھے کارفرما وجوہات فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکیں جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ تعلیم (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کے حکام نے مختلف علاقوں میں سنگین سکیورٹی خدشات پیدا ہونے کے بعد بعض سکولوں کی عارضی بندش کی تصدیق کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بعض عناصر کی جانب سے طلبہ کو تعلیمی اداروں میں جانے سے روکا گیا ہے جس کے باعث طلبا اور اساتذہ کی حفاظت کو یقینی بنانے اور کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے یہ عارضی اقدامات کیے گئے ہیں۔

اس تشویشناک صورتحال پر اہل علاقہ، والدین اور مقامی عمائدین نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں اور معصوم طلبہ کو کسی بھی قسم کے تنازع یا سکیورٹی صورتحال کا نشانہ نہ بنایا جائے۔

عمائدین کا کہنا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر بچے کا بنیادی حق ہے اور تعلیمی سرگرمیوں کو سازش کے تحت متاثر کرنا علاقے کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

مقامی لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ سکیورٹی رسک کے باعث کئی سکول تاحال بند ہیں، لیکن پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے اس حساس معاملے پر اب تک کوئی واضح مؤقف یا بیانیہ سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے عوامی حلقوں میں تشویش اور بے چینی مزید بڑھ رہی ہے۔

سرکاری ذرائع نے والدین کو فی الحال اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجنے کا مشورہ دیا ہے۔

علاقے کے عوام اور سول سوسائٹی نے حکومت، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ تعلیمی ماحول کے تحفظ، اساتذہ کی سکیورٹی اور سکولوں کی فوری بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اور عملی اقدامات کریں تاکہ طلبہ کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔