سیماء وزیر
جنوبی وزیرستان ، ایک ایسا علاقہ جو کئی دہائیوں سے جنگ و جدل اور بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہے، وہاں ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے پروگرام نے ایک نئی امید کی کرن روشن کی ہے۔ جاوید سلطان کیمپ وانا جنوبی وزیرستان میں قائم وانا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ٹریننگ میں 145 خواتین اور طالبات میں سے25 ابھی زیر تعلیم ہیں جبکہ 120 نے ٹریننگ مکمل کر لی ہے۔
مذکورہ انسٹی ٹیوٹ میں دو ٹیچرز ہیں جو ان کو ڈیجیٹل اسکلز کی ٹریننگ دیتے ہیں۔
وانا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ٹریننگ کے استاد شاہسوار نے بتایا کہ “اس ادارے کا مقصد طلا کو آن لائن کاروبار سکھانا ہے تاکہ وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔ جہاں تک ہم دیکھ رہے ہیں، کافی حد تک اب بچیاں اس قابل ہو چکی ہیں کہ وہ آن لائن کما سکتی ہیں۔ یہ ادارہ اپنی کامیابی کی طرف گامزن ہے۔ جو طالبات ڈپلومہ مکمل کر لیتے ہیں، انہیں تعریفی اسناد اور انعامات سے نوازا جاتا ہے۔”
سماجی شخصیت نور علی وزیر کا کہنا ہے کہ “ڈیجیٹل اسکلز پروگرام وزیرستان کے لوگوں کے لیے بہت مفید ہے۔ اس سے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع مل سکتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے اس جدید دور میں ڈیجیٹل پروگرام سیکھنا آن لائن کاروبار کو فروغ دے سکتا ہے۔ وزیرستان کے زیادہ تر نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ انہیں اپنے علاقے میں ڈیجیٹل کورسز کا موقع مل جائے۔”
نور علی وزیر نے مزید بتایا کہ “ڈیجیٹل کورس سیکھنے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ لوگ نظر آتے ہیں کہ انہوں نے آن لائن کاروبار کو فروغ دیا ہے اور اپنے کاروبار کو سوشل میڈیا کے زریعے مذید فعال کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میری یہ بھی تجویز ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کے لیے فنی تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ ملک کے اندر اور باہر روزگار تلاش کر سکیں کیونکہ ہنر انسان کو کامیابی دلا سکتا ہے۔”
روبینہ وزیر، جو اس سنٹر میں زیر تعلیم ہیں، کہتی ہیں، “میرے ایڈمیشن لینے کی اصل وجہ اسکلز سیکھنا ہے کیونکہ آج کل دنیا میں بغیر اسکلز کے آپ کہیں بھی کامیاب نہیں ہو سکتے ہیں۔ آپ کو نوکری کے لیے کامیابی کے لیے اسکلز کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے بہترین اسکلز سیکھنے کے لیے میں نے یہاں ایڈمیشن لیا اور مجھے بہت خوشی ہوئی کہ مجھے یہاں ڈیجیٹل اسکلز سیکھنے کا موقع ملا۔”
ایک اور خاتون، شابانہ وزیر، جو اس سنٹر سے ڈیجیٹل مہارت حاصل کرنے کے بعد اب اپنا کاروبار کر رہی ہیں، کہتی ہیں، “میں نے بزنس کلاسز لیں، اور سنٹر سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے اور اب میں گھر بیٹھے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا کپڑوں کا کاروبار بہت آسانی سے کر رہی ہوں۔ ملک کے مختلف علاقوں میں میرے کپڑے لوگوں کو مل جاتے ہیں، اور مجھے مختلف بینکوں میں ڈیجیٹل اکاؤنٹ بنانا سکھایا گیا جو کہ اب میں اپنے استعمال میں لا کر اپنا کاروبار بآسانی کر رہی ہوں۔”
وزیرستان میں ڈیجیٹل اسکلز پروگرام نے نوجوانوں اور خاص طور پر خواتین کو ایک نئی راہ دکھائی ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف ان کی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے بلکہ انہیں آن لائن کاروبار اور فنی تعلیم کے ذریعے خود مختار بننے کا موقع بھی فراہم کر رہا ہے۔